مستقبل کا انسان انتہائی ذہین اور جسمانی و ذہنی بیماریوں سے محفوظ ہوگا۔ یہ اب پیش گوئی نہیں رہی۔ ایسے بچے ہونا شروع ہوگئے ہیں اور ایسی تحقیق پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔
امریکا اور بیشتر ملکوں میں جیتیاتی طور پر تبدیل شدہ یا تخلیق کیے گئے بچے پیدا کرنے پر پابندی ہے۔ اس لیے امریکی سائنس داں یہ کام عرب امارات میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سان فرانسسکو کی ایک کمپنی "پری وینٹو” اس سلسلے میں سرگرم ہے لیکن اس کے بیشتر معاملات خفیہ ہیں۔
اس سے پہلے ایک چینی سائنس داں نے 2018 میں نے اعلان کیا تھا کہ اس نے تین ایسے بچے پیدا کیے جن کے ایمبریوز کو جینیاتی طور پر ایچ آئی وی سے محفوظ بنانے کی خاطر ایڈٹ کیا گیا تھا۔ چین میں بھی اس عمل پر پابندی ہے اس لیے اس سائنس داں کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
امریکی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کو بیماریوں سے محفوظ بنانے کے لیے تحقیق کررہے ہیں جو انسانیت کی خدمت ہے۔ والدین اپنے بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے علاوہ پیدا ہونے سے پہلے ان کے قد، مزاج اور ان کی آنکھوں کے رنگ تک منتخب کرسکیں گے۔
چیٹ جی پی ٹی کی پیرنٹ کمپنی اوپن اے آئی کے سربراہ سام آلٹمین سمیت کئی ارب پتی ایسی تحقیق میں سرمایہ لگارہے ہیں۔ یہ کام کرنے والی کمپنیاں ایک ایمبریو کی جیناتی ایڈیٹنگ کے ڈھائی ہزار ڈالر طلب کررہی ہیں
36
گزشتہ تحریر